برسلز ( کامرس ڈیسک) یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق کے باوجود توانائی کا عالمی بحران فوری طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں۔یورپی کمیشن کی ترجمان اینا کائیسا ایٹکونین نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ اہم بحری گزرگاہ میں کشیدگی میں کمی کے باوجود توانائی کی منڈیوں میں صورتحال جلد معمول پر نہیں آئے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ بحران کے جلد خاتمے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ اس تعطل نے عالمی سپلائی چین کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے اور اس کے اثرات طویل عرصے تک رہ سکتے ہیں۔ترجمان کے مطابق یورپی یونین کی ایل این جی درآمدات کا تقریباً آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے جبکہ خطے کے ممالک سے آنے والا تیل بھی بڑی حد تک اسی راستے پر منحصر ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جیٹ فیول اور ڈیزل سمیت ریفائن ایندھن کی درآمدات کا بڑا حصہ بھی اسی بحری راستے سے ہوتا ہے، جس کے باعث اس گزرگاہ کی بندش یا محدود فعالیت عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈالتی ہے۔یورپی یونین کے مطابق دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل کا تقریباً بیس فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے ہوتا ہے، اس لیے حالیہ کشیدگی نے توانائی کی قیمتوں پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔