تھائی لینڈ( مانیٹرنگ ڈیسک)تھائی لینڈ کے روایتی نئے سال کے تہوار سونگ کران کے دوران خوشیاں غم میں بدل گئیں، جہاں سات روزہ تقریبات کے ابتدائی تین دنوں میں ایک سو اکیانوے افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ نو سو اکاون سے زائد ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سونگ کران کو دنیا کا سب سے بڑا پانی کا تہوار قرار دیا جاتا ہے، جو ہر سال اپریل کے وسط میں منایا جاتا ہے اور اس موقع پر لاکھوں افراد بڑے شہروں سے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق تہوار کے پہلے دو دنوں میں ہی باون افراد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہوئے، جبکہ تقریباً بیالیس فیصد حادثات کی بڑی وجہ تیز رفتاری اور ستائیس اعشاریہ چار فیصد واقعات نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کے باعث پیش آئے۔اس تہوار کو خطرناک سات دن بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس دوران زیادہ تر حادثات دوپہر تین بجے سے شام چھ بجے کے درمیان ہوتے ہیں، جبکہ ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنا اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ بھی اموات میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔حکومتی سطح پر حفاظتی مہمات اور سخت قوانین کے باوجود ہر سال حادثات اور ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔رواں سال اس تہوار میں تقریباً پانچ لاکھ غیر ملکی سیاحوں کی آمد متوقع ہے، جس سے ملکی معیشت کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔رپورٹس کے مطابق مقامی عقیدے کے تحت اس تہوار میں پانی کا استعمال صفائی اور گزشتہ سال کی برائیوں کو دھونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
سونگ کران تہوار خونی ثابت، 3 دن میں 191 ہلاکتیں، سینکڑوں حادثات
2 گھنٹے قبل